ہر شئ زمانہ کی فناء ہوتی ہے،
ہر بات کہاں لب سے بیاں ہوتی ہے!
صاحبِ دل ہو تو جانتے ہوگے یہ بھی،
بات دل کی کب لفظوں میں بیاں ہوتی ہے!
بقول اسے محسوس کیا جا سکتا ہے،
مگر یہ حقیقت بھی حسّاسوں پر عیاں ہوتی ہے!
جانے والے لوٹ ہی آتے ہیں ایک وقت کے بعد،
مگر کب لوٹتے ہیں وہ جن سے زندگی خفا ہوتی ہے!
عاس ! لفظوں کا کھیل چلے گا کب تک؟
بکھرے ہوئے ہر-۲ لفظ کی ایک زباں ہوتی ہے!
