دیکھو نہ دور تم حاضر یہ دور ہے،
انصاف اب جہاں میں زندہ درکور ہے!
مظلوم کی آہ پر خاموش ہیں سبھی،
ظالم کی ہمایت میں زوروں کا شور ہے!
وقت کی نزاقت ہے؛ لمحئہِ فکر ہے،
رہبر یہ کہ رہے ہیں؛ یہ صبر کا دور ہے!
قدرت کو للکارتی یہ انسانی کاوشیں،
اب دین پر جمنے اور جمانے کا دور ہے!
جاہل جب لے رہے ہیں اماموں کا امتحان،
فتنوں سے اب خود کو بچانے کا دور ہے!
دشمن کے رفیق بن گئے ہیں صاحبِ مال لوگ،
یہ غریبوں کی آبرو بچانے کا دور ہے!
زندہ دلی کا ثبوت مانگتی ہے قوم اب،
دھڑکنِ قلب اب؛ محسوس کرانے کا دور ہے!
