دنیا ایک بازار ہے،
بکتا یہاں سنگار ہے۔
یہاں عصمتیں بھی لٹتی ہیں،
یہاں حسرتیں بھی بکتی ہیں،
اور ہر ایک یہاں خرید دار ہے،
یہ دنیا ایک بازار ہے۔
ہر شخص یہاں بازاری ہے،
یہاں ہر ایک کی حصّے داری ہے،
کوئ لٹ جاتا ہے آکر کہ یہاں،
اور کسی نے لوٹنے کی ٹھانی ہے،
مگر ہر ایک یہاں خود دار ہے،
یہ دنیا ایک بازار ہے۔
آنکھیں کھول کر دیکھو تو،
کہیں حسرت کہیں درد دکھتا ہے،
یہاں اشیاء کی باتیں چھوڑوں،
انسان تلک یہاں بکتا ہے،
حیرت کی کوئ بات نہیں،
ہر شیئ کا یہاں خرید دار ہے،
یہ دنیا ایک بازار ہے۔
کاروباری بھی ہیں اور دستور بھی ہیں،
یہاں طاقتور بھی ہیں اور معزور بھی ہیں،
مت ذکر کرو ابھی اسکا تم،
یہاں گرم ابھی بازار ہے،
یہ جو بھی اور جینسا بھی ہے،
لیکن یہ میرا پریوار ہے۔
یہ دنیا ایک بازار ہے۔
